ماہرین امراض اطفال کی ایشیا میں ٹائیفائیڈ کی وبا نظر

–  ماہرین کا امیونائزیشن کی کوششوں کو توسیع دینےکا مطالبہ

کوچنگ، ملائیشیا، 13 ستمبر 2012ء/پی آرنیوزوائر–

کوالیشن اگینسٹ ٹائیفائیڈ (CaT) نے 14 ویں ایشیا پیسفک کانگریس آف پیڈیاٹرکس میں ایشیا بھر کے پالیسی سازوں اور وزارتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ممالک میں ٹائیفائیڈ کی ویکسی نیشن کو ترجیح بنائیں۔ سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ کے منصوبے سی اے ٹی نے ایشیا بھر کے ماہرین اطفال کو خطے میں ٹائیفائیڈ کے بوجھ پر تبادلہ خیال کرنے اور اس بڑھتی ہوئی وبا سے نمٹنے کے لیے حل پیش کرنے کے لیے جمع کیا۔

ویمن اینڈ چائلڈ ہیلتھ ڈویژن آغا خان یونیورسٹی، کراچی، پاکستان کے بانی چیئر ڈاکٹر ذوالفقار علی بھٹہ نے کہا کہ “خطے بھر میں پھیلی امراض اطفال کی اور دیگر انجمنیں ٹائیفائیڈ کے سنجیدہ اثرت کو سمجھتی ہیں، خصوصا ً ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے ٹائیفائیڈ کے ابھرتے اور بڑھتے ہوئے خطرے کو۔ کئی ممالک – بشمول بھارت اور انڈونیشیا – نے ٹائیفائیڈ ویکسین کے استعامل میں مدد کے لیے سفارشات مرتب کی ہیں۔ قومی اسٹیک ہولڈرز اور پالیسی سازوں کو شواہد پر نظر ثانی کرتے ہوئے ٹائیفائیڈ ویکسین کو اختیار کرنے پر تبادلہ خیال کرنا چاہیے۔”

2009ء میں ایک اجلاس کے دوران “فوری” لفاذ کے لیے ٹائیفائیڈ ویکسین کو ترجیح دینے کی عالمی ادارۂ صحت کی سفارش کے باوجود ایشیا کے کئی ممالک کی جانب سے اب بھی ٹائیفائیڈ ویکسین کی سفارش کرنا یا متعارف کروانا باقی ہے۔

ویت نام کے قومی امیونائزیشن پروگرام کے نائب سربراہ ڈاکٹر این گوین وان کونگ نے کہا کہ “1997ء سے ویت نام کی وزارت صحت زیادہ خطرے سے دوچار اضلاع میں بیماری پر موثر انداز میں قابو پانے کے لیے ٹائیفائیڈ ویکسین استعمال کر رہی ہے۔ کامیاب پروگراموں کو چین اور تھای لینڈ میں بھی نافذ کیا گیا۔”

ڈبلیو ایچ او کے مطابق سالانہ اندازاً 21 ملین افراد کو متاثر کرتا ہے اور 2 لاکھ سے زائد اموات کا سبب بنتا ہے، زیادہ تر ایشیا اور افریقہ کے ترقی پذیر ممالک میں قبل از اسکول اور اسکول جانے کی عمر کے بچوں میں ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او رپورٹ کرتا ہے کہ 90 فیصد ٹائیفائیڈ اموت ایشیا میں ہوتی ہیں۔

سابن کےکوالیشن اگینسٹ ٹائیفائیڈ سیکریٹریٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر کرسٹوفر نیلسن نے کہا کہ “ڈبلیو ایچ او کی منظور شدہ ٹائیفائیڈ ویکسین اب دستیاب ہیں، البتہ ان کا ایشیا بھر میں صحت کی وزارتوں کی جانب سے منظور کرنا ابھی باقی ہے۔ پیڈیاٹرک ایسوسی ایشنز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو شواہد پر نظرثانی اور ٹائیفائیڈ ویکسین کے نفاذ پر تبادلہ خیال کرنا چاہیے۔”

ٹائیفائیڈ غربت سے متاثرہ ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا ہے جہاں پینےکے لیے صاف پانی  اور نکاسی آب کی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں اور آلودہ پانی اور خوراک کے ذریعے ٹائیفائیڈ پھیلتا ہے۔ بڑے پیمانے پر اموات کے علاوہ ٹائیفائیڈ انفیکشن اسکولوں میں حاضریوں اور کامیابیوں اور افراد کار کی شرکت اور پیداواری صلاحیت کو محدود کرنے کا سبب بنتا ہے۔

بنگلہ دیش پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن(بی پی اے) کے حالیہ سابق سیکرٹری جنرل، امیونائزیشن سب کمیٹی بی پی اے کے سیکرٹری اور شعبہ صحت اطفال، گونوساستھیو سماج وتک میڈیکل کالج، سوار، ڈھاکہ کے سربراہ ڈاکٹر مصباح الدین احمد نے کہا کہ “بنگلہ دیش میں ٹائیفائیڈ بچوں، نابالغان اور نو بالغان کے بخار جیسی علامات کے ساتھ ہسپتالوں میں داخل ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے ۔”

اپنے مذاکروں اور پریزنٹیشنز میں ماہرین امراض اطفال نے خطے بھر میں بہتر حفاظت اور کنٹرول پروگراموں کی ضرورت پر زور دیا، یہ توجہ دلاتے ہوئے کہ زیادہ اثر رکھنے کے لیے ٹائیفائیڈ ویکسی نیشن کوششوں کو دیگر سرکاری صحت پروگراموں کے ساتھ تعاون کے ذریعے نافذ کیا جانا چاہیے، جیسا کہ محفوظ پانی کی فراہمی اور اچھی صحت بخش مشقوں کے فروغ، بشمو ل ہاتھ دھونے، کے منصوبوں کے ساتھ۔

ایشیا میں ٹائیفائیڈ کے بوجھ کے بارے میں مزید جاننے اور آج کی تقریب کے مقررین کی مکمل فہرست دیکھنے کے لیے ملاحظہ کیجیے http://coalitionagainsttyphoid.org/۔

کوالیشن اگینسٹ ٹائیفائیڈ (سی اے ٹی) کے بارے میں

کوالیشن اگینسٹ ٹائیفائیڈ (سی اے ٹی) سائنسدانوں اور امیونائزیشن کے ماہرین کا ایک عالمی فورم ہے جو بہت زیادہ بوجھ تلے دبی آبادیوں میں زندگیاں بچانے کے لئے میں ٹائیفائیڈ ویکسی نیشن کو آگے بڑھانے کا کام کر رہے ہیں جو دیگر معروف اتحادوں میں سے ایک ہے۔ عالمی صحت کے ایجنڈے پر ٹائیفائیڈ کو ترجیح دینے اور اس بیماری کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک جامع منصوبہ بندی تخلیق کرنے کے ذریعے ٹائیفائیڈ کے خلاف اتحاد  ان زندگی  بچانے والی ویکسینز تک رسائی کے اضافے میں بے تابی سے کام کر رہا ہے۔سی اے ٹی کے بارے میں مزید معلومات کے لیے http://www.coalitionagainsttyphoid.org/۔

سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ کے بارے میں

سابن ویکسین انسٹیٹیوٹ سائنسدانوں، محققین اور حامیوں کا ایک غیر منافع بخش 501 (سی) (3) ادارہ ہے جو منطقہ حارہ کے قابل علاج اور نظر انداز کیے گئے امراض کی ویکسین کی عدم دستیابی کے باعث انسانوں کو ہونے والی پریشانیوں کو کم کرنے سے وابستہ ہیں۔ سابن دنیا بھر میں صحت کے لیے اثر پذیر ترین خطرات میں سے چند کے لیے حل فراہم کرنے کی خاطر حکومتوں، معروف سرکاری و نجی اداروں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ 1993ء میں اورل پولیو ویکسین تیار کرنے والے ڈاکٹر البرٹ بی سابن کے نام پر قائم کیا گیا یہ ادارہ ان امراض کو روکنے، ان کا علاج کرنے اور خاتمے کے لیے نئی ویکسینز تیار کرنے، موجودہ ویکسینز کے استعمال کی حمایت کرنے اور سستے طبی علاج تک رسائی میں اضافے کو فروغ دینے کے لیے صف اول میں موجود ہے۔ مزید معلومات کے لیے ملاحظہ کریں www.sabin.org۔